زیاں کار
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - گھاٹا اٹھانے والا، نقصان یا خسارہ برداشت کرنے والا۔ پاؤ گئے، ہم سے زیاں کار، بہت کم یارو توڑ کر اس کی انا، ٹوٹ گئے ہم یارو ( ١٩٨١ء، باد سبک دست، ١٠٨ ) ٢ - نقصان پہنچانے والا، ضرر رساں، نقصان دہ۔ نڈر ہر زیاں کار حیوان سوں چلیا جائے معشوق کے دھیان سوں ( ١٦٥٧ء، گلشن عشق، ١٠٨ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'زیاں' کے ساتھ 'کار' بطور لاحقۂ فاعلی لگا کر مرکب 'زیاں کار' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٠٣ء کو "شرح تمہیدات ہمدانی" میں مستعمل ملتا ہے۔